Monday, July 29, 2024

کٹ ہی جایگا سفر آہستہ آہستہ

کٹ ہی جایگا سفر آہستہ آہستہ 
منزلیں ہوتی ہیں سر آہستہ آہستہ 

جلدبازی میں بگڈ جاتے ہیں کام اکثر
بیج بنتا ہے شجر- آہستہ آہستہ 

صبرکراے دل نہ ہو بے صبراس قدر 
 آیگی پھر سے سحر- آہستہ آہستہ

 سو گھڑے پانی ابھی  دینے سے کیا حاصل 
پیڈ  دیتا ہےثمر- آہستہ آہستہ 

 کرم کرنا دھرم ہے تو کرم کرتا چل 
   پهل ملیگا  وقت پر- آہستہ آہستہ  

کردعا 'راجن' دعائیں رنگ لاتی ہیں 
ہاں - مگر ہوگا  اثر- آہستہ آہستہ
                " راجن سچدیو "

2 comments:

Forget what makes you sad वो बातें भुला दो

Forget the things that make you sad Remember the moments that make you glad Forget the troubles that have passed away Enjoy the blessings th...